رخصتی سے پہلے تین طلاق کا حکم
سوال
یہ کہ ایک مسلمان مسمی عبد الکریم کا نکاح موضع راہ میں ہوا ابھی رخصتی نہیں ہوئی عرصہ ایک سال کا گذر گیا ہے، اس کے بعد بوجہ ناراضگی کے وہ رشتہ چھوڑ کر دوسری جگہ وہ رشتہ کے واسطے گیا آگے لڑکی والوں نے سوال کیا کہ تمہارا نکاح آگے موضع راہ میں ہوا ہے، جب تک تم ان کو طلاق نہ دو، ہم تم کو رشتہ کیسے دے سکتے ہیں، اس پر عبدالکریم نے دوسری شادی کی خاطر کہا پہلی الہی بخش کی لڑکی فیروز جہاں جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے، عرصہ ایک سال کا ہوا ہے جس کے ساتھ آباد نہیں ہوا اس کو میں طلاق کرتا ہوں، روبرو گواہوں کے اپنی خوشی سے طلاق…
جواب
جس عورت کے ساتھ اس کے شوہر نے صحبت نہ کی ہو اگر اس کو تین لفظوں سے طلاق دے تو اس کو ایک ہی طلاق ہوتی ہے، دوسری اور تیسری نہیں ہوتی مثلاً اس طرح کہے کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی تو اس طرح کہنے سے صرف ایک ہی طلاق ہوگی اور دوبارہ نکاح بغیر حلالہ کے صحیح ہو جائے گا، اور اگر ایک لفظ سے تین طلاق دی، مثلاً اس طرح کہے کہ میں نے تین طلاق دیں، تو تینوں واقع ہو جائیں گی، اور پھر بغیر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔