تین طلاق کے بعد غیر مقلد کے فتوے پر عمل جائز نہیں
سوال
ایک شخص عاقل بالغ ہے، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدیا جسکے دو گواہ بھی موجود ہیں اور خود مقر بھی ہے کہ میں نے تین طلاق دیا لیکن ایک غیر مقلد مولوی کو کچھ روپیہ دے کر فتوی حاصل کر لیا کہ بغیر حلالہ کے اپنی بیوی کو رکھ سکتے ہو، چنانچہ اس نے بغیر حلالہ کے صرف توبہ کر بیوی اور کھ سکتے ہو، چنانچہ اس نے بغیر حلالہ کے صرف توبہ کر کے بیوی کو رکھ لیا، اور دو مولوی صاحبان نے فتاوی عبد الحئی جلد اول کتاب الطلاق ص: ۴۸۶، کا حوالہ دیا کہ بوقت ضرورت اس عورت کا اس سے علیحدہ ہونا دشوار ہو اور سخت ترین مفاسد میں مبتلا ہونے کا…
جواب
چاروں امام ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے اگر کوئی شخص حاجت شدیدہ کے وقت کسی کے مسلک پر فتویٰ لے کر عمل کرے تو شرعاً گنجائش ہے، حاجت شدیدہ یہ ہے کہ سخت ترین مفاسد میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ قویہ ہوں، مثلاً ایک عورت کا شوہر کہیں مفقود ہو گیا، نہ اس کے جذبات پورے ہو سکتے ہیں، نہ نفقہ کا انتظام ہے، سخت اندیشہ ہے، کہ وہ معصیت میں مبتلا ہو جائے، یا مذہب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔