غیر مدخولہ پر تین طلاق
سوال
ایک شخص نے اپنی زوجہ صغیرہ غیر مدخولہ بہا کو کہا کہ میں تجھے ایک دو تین طلاق مغلظہ دیتا ہوں یا اپنی زوجہ مذکورہ سے یوں کہا کہ میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ دونوں مذکورہ بالا صورتوں میں تینوں طلاق یک ساتھ واقع ہوں گی، یا نہیں، اگر ہوں گی تو بدون تحلیل کے نکاح درست ہو گا یا نہیں یا صغیرہ وکبیرہ مدخول بہا وغیر مدخول بہا کے درمیان تین طلاق کے بعد تحلیل وعدم تحلیل میں کوئی فرق نہیں ہے، نیز یہ امر بھی واضح ہو کہ صورت اولی میں اعداد کا ذکر مقدم ہے اور طلاق کا ذکر بعد کو ہے، یہ صورت تفریق کی ہے یا…
جواب
دونوں صورتوں میں طلاق مغلظہ واقع ہوگئی، پہلی صورت میں اس لئے کہ طلاق صرف ایک دو تین سے واقع نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ لفظ طلاق کا ذکر نہ کیا ہو اور جب لفظ طلاق کا ذکر کیا تو اس کا تعلق مجموعہ ایک دو تین سے ہوگا، اور لفظ مغلظہ اس کے لئے صفت کاشفہ بنے گی لو قال اگر فلانه بزنی کنم از من بیک ودو طلاق وسه طلاق فتزوجها تطلق واحدة ولو قال بيكي ودووسه طلاق ثم تزوجها يقع الثلاث خلاصة…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔