الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق ایک نہیں بلکہ تین ہیں

سوال

ایک آدمی نے جس نے رات کو بدرجہ مجبوری یعنی بیوی کی بیماری کی وجہ سے اختلاط کیا ہو، صبح کو بیوی نے کچھ سخت جملے کہہ دیئے ہوں، اور غصہ میں آکر انتہائی جنون میں شوہر سے بغیر ارادہ نکل گیا ہو کہ میں نے طلاق دی تین طلاق دی طلاق دی اور بعد میں کہا ہو نہیں دی، غصہ اترتے ہی قرآن میں سورہ طلاق دیکھ کر رجعت بھی کر لی ہو جس میں لکھا ہے کہ طلاق تین بار کر کے دو دو گواہ بنا لو تین طہر میں دو، اور ایک دفعہ میں تین بار کہا تو وہ ایک کے حکم میں ہوگی، ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے، (۱)

جواب

یہ کہنا کہ قرآن پاک میں لکھا ہے کہ طلاق تین بار کر کے دو دو گواہ بنالو تین طہر میں دو اور اگر ایک دفعہ میں تین بار کہا ہو تو وہ ایک طلاق کے حکم میں ہوگی، اگر یہ لاعلمی اور کم فہمی کی وجہ سے ہے تو نہایت جسارت ہے، بے علم اور کم فہم آدمی کو ہرگز ہرگز اس کا حق نہیں ہے کہ قرآن پاک کا خود مطالعہ کر کے اس سے مسائل نکالے اس سے وہ گمراہی میں مبتلا ہوگا، اس کو توبہ کرنا لازم ہے، اگر علم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو