تین طلاق کا ایک ہونا
سوال
ایک حدیث میری نظر سے گذری جس کا ترجمہ لکھتا ہوں، جس سے اصل حدیث کا پتہ آپ کو معلوم ہو جائے گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں بلکہ حضرت عمر کی خلافت کے دو سال تک بھی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، پھر حضرت عمرؓ نے کہا کہ لوگوں نے ایک ایسے کام میں جلدی کی ہے، جس میں شرع کی طرف سے ان کیلئے ڈھیل منظور رکھی گئی تھی، اگر ہم ان پر یہ حکم جاری کر دیں، تو مناسب ہے، پس انہوں نے جاری کر دیا۔ (مسلم)
جواب
(او۲) طلاق کی حنفیہ کے نزدیک تین قسمیں ہیں، اول رجعی، جس میں عدت کے اندر رجعت کا حق رہتا ہے، اور بعد عدت طرفین کی رضامندی سے نکاح درست ہوتا ہے، ثانی بائن، جس میں رجعت کا حق نہیں رہتا، البتہ خواہ عدت میں خواہ بعد عدت نکاح درست ہے ثالث مغلظہ: جس میں نہ رجعت کا حق رہتا ہے، نہ نکاح درست ہوتا ہے، بلکہ اگر نکاح کرنا چاہے تو بغیر حلالہ کے نکاح نہیں ہو سکتا ہے اسی قسم ثالث کے متعلق…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔