الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ چھوڑ دی سے طلاق

سوال

محمد شفیع نے اپنے خسر کے بھائی اللہ دتا کو لکھا کہ تم اپنی لڑکی خاتون کو گھر پر ہی رکھو ہم نے تمہاری لڑکی چھوڑ دی بالکل چھوڑ دی، ہمارے نہ کوئی آئے اور نہ جائے، اس سے پہلے زوجہ اور شوہر میں نا اتفاقی بھی تھی، ملک پنجاب کے دیہات میں طلاق کے موقعہ پر لفظ طلاق شاذ ونادر ہی کوئی بولتا ہے، ورنہ تمام کا محاورہ یہی ہے کہ چھوڑ دی یا لکھدی ان دونوں فقروں سے مراد طلاق ہی لیتے ہیں، دریافت طلب یہ امر ہے کہ صورت مذکورہ بالا میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے طلاق پڑ گئی یا کہ نہیں؟

جواب

اگر مسمی شفیع نے اپنی زوجہ کے متعلق الفاظ مذکورہ تحریر کئے ہیں، اور وہ اس تحریر کا مقر بھی ہے تو ہمارے عرف کے موافق شرعاً طلاق واقع ہوگئی، کیونکہ یہ الفاظ ہمارے عرف میں بمنزلہ صریح کے ہیں، اور طلاق جس طرح کہ زبان سے کہنے سے ہو جاتی ہے تحریر کرنے سے بھی ہو جاتی ہے،

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو