صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں
سوال
زید کی زوجہ کچھ خاوند کی ناقدرداں ہے، اور خانگی کاروبار میں خاوند کے کہنے کی پرواہ نہیں کرتی ہے، کھانا وغیرہ دیتے وقت بھی اکثر زبان درازی کر جاتی ہے، اور ناشائستہ کلمات بک دیتی ہے، زوج بہت غریب آدمی ہے، دو بچے بھی ہیں بوجہ عسرت اکثر یہ نوبت آتی ہے، زوج نے اکثر موقعوں پر اس کی زبان درازی سے تنگ آکر اپنی جہالت سے کہدیا کہ تو چلی جا میں نہیں رکھتا تجھے طلاق دیدی ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ تو میری خالہ ہے اگر تیرے بھائی نے اپنی لڑکی کا رشتہ میرے لڑکے سے نہ کیا تو تجھے بھی نہ رکھوں گا، زوجہ اپنی ساس سے لڑتی ہے، تو زید نے…
جواب
تین مرتبہ طلاق دینے سے مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ رکھنا درست نہیں ہے صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔