الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق صریح میں نیت کا اعتبار نہیں

سوال

(۱) زید کی ماں زید کو برا بھلا کہہ رہی تھی وہ خاموش سن رہا تھا، اتنے میں اور لوگ زید کی ماں کی آواز سن کر آگئے، زید ماں کی باتوں کو سنکر عاجز آ گیا، تو لوگوں کو مخاطب کر کے بولا کہ تم لوگ گواہ رہو کہ میں زینب کو طلاق دے رہا ہوں، یہ الفاظ زید نے تین بار کہے، معلوم ہوا کہ اس جھگڑے میں زید کی بیوی کا کوئی تعلق نہیں تھا، اور نہ زید کی نیت طلاق دینے کی تھی، کیا اس سے طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ بیوی گھر والوں کی بہت فرمانبردار ہے، اس وقت اس کی بیوی وہاں موجود بھی نہ تھی اور نہ اس نے طلاق کے الفاظ سنے ہیں؟ (۲)

جواب

ایک عاقل بالغ شخص حواس سالم رہتے ہوئے ایک جملہ بولتا ہے جو اپنی وضع کی حیثیت سے معنی دار ہے، مہمل نہیں، برمحل ہے (بیوی کے حق میں ہے) بے محل نہیں ہے، ماں کی سخت گفتگو کی وجہ سے جس سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ ماں کو سکون حاصل ہو جائے، پھر وہ سخت گفتگو نہیں کرے گی، تو کیسے تسلیم کیا جائے کہ اس کی نیت نہیں تھی، صاف صریح لفظوں میں بھی نیت پر مدار رکھا جائے تو سارے عالم کا نظام درہم برہم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو