الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چھوڑ دی نکل جا، کا حکم

سوال

ایک عورت کی ایک مرد کے ساتھ شادی ہوئی ہے اور اس سے ایک لڑکی اور ایک لڑکا پیدا ہوا اور پھر اس کے مرد نے اپنے بھائی کی بیوہ سے نکاح کر لیا، اور پہلی بیوی سے ناچاقی پیدا ہو گئی، اور اس نے عورت کو گھر سے نکال دیا، پھر اس عورت مذکورہ کے بھائی نے اس کو خاوند کے پاس پہنچایا لیکن اس خاوند نے اس عورت سے مار پیٹ کی عورت نے کہا کہ میں آباد ہونا چاہتی ہوں تم مجھے کیوں نکالتے ہو اور تنگ کرتے ہو، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، مرد نے غصہ میں آ کر کہا تو میری ماں، بہن ہے میں نے تجھے چھوڑ دیا، تو نکل جا، لڑکی اپنے ماموں کے یہاں چلی…

جواب

ہمارے عرف میں شوہر کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا، بمنزلہ صریح طلاق کے ہے اس سے شرعاً ایک طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے کہ شوہر نے دوسرا لفظ یہ کہا کہ تو نکل جا، یہ کنایہ طلاق سے ہے اگر اس سے طلاق کی نیت کی ہے تو اس سے دوسری طلاق واقع ہو گئی ہے اور وہ بائن ہوئی اب اگر عورت اور مرد رضامند ہو جاویں تو دوبارہ نکاح صحیح ہوگا بغیر تجدید نکاح کے رکھنا درست نہیں، اور اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو