الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ چھوڑ دی سے طلاق کا حکم

سوال

زید نے کسی معمولی بات پر اپنی بیوی سے جھگڑا کر کے کہا جاؤ میں نے تجھے چھوڑ دیا، بعدۂ زید سے پوچھا گیا، جاؤ میں نے تجھے چھوڑ دیا اس سے تیرا کیا مطلب ہے، زید قسم کھا کر کہتا ہے اس لفظ سے میرا مطلب اپنی بیوی کو تنبیہ کرنا ہے، تا کہ شرارت سے باز آجائے ناکہ طلاق دے کر دور کر دینا، اس واقعہ سے قبل یا بعد لفظ طلاق یعنی مذاکرہ طلاق نہیں ہوئی، میاں اور بیوی دونوں قسم کھا کر اقرار کرتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ بلانیت جاؤ میں نے تجھے چھوڑ دیا اس لفظ سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی، یا نہیں اگر طلاق واقع نہیں ہوگی تو جواب…

جواب

یہاں دو لفظ ہیں” جاؤ“دوسرا میں نے تجھے چھوڑ دیا، پہلا لفظ کنایہ ہے کہ طلاق کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، اور غیر طلاق کے لئے بھی اس میں رد کی بھی صلاحیت ہے، اور جواب کی بھی اس سے طلاق ہونے کا مدار نیت پر ہے، اور شوہر کا قول قسم کے ساتھ نیت کے بارے میں معتبر ہے عبارت بالا سے چند امور معلوم ہوئے عربی میں سرحتک اور فارسی میں بہشتم یا رہا کردم با یله کردم اصالہ کنایہ ہیں لیکن عرفاً…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو