الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ” چھوڑ دیا“ سے طلاق

سوال

ایک سوال جس کا جواب جناب نے تحریر فرمایا ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ میرے گھر سے چلی جا، میں نے تجھے چھوڑ دیا تو ہمارے عرف میں اس سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے، لہذا تین دفعہ ایسا کہنے سے طلاق مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ کے اس کے ساتھ زوجیت کا تعلق قائم کرنا حرام ہے، ہمارے یہاں جس شخص نے حسب بالا کئی مرتبہ استعمال کئے تھے، تو اس شخص نے بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کر کے اس عورت سے زوجیت کا تعلق قائم کر لیا ہے، لہذا اس کے یہاں کا کھانا، پینا، لینا، دینا تعلق رکھنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

اگر وہاں کا عرف وہ نہیں ہے جو فتویٰ میں پیچھے لکھا تھا تو حلالہ کی ضرورت نہیں تھی، پس سہارنپور کے فتوے پر عمل کر لیا درست کیا، اگر عرف میں وہی تھا تو یہ دوبارہ نکاح بغیر حلالہ کے درست نہیں ہوا، خلاصہ یہ ہے کہ اگر لفظ ”چھوڑ دیا سے اصالۃً طلاق دینا مقصود ہے تب تو طلاق مغلظ ہوگئی اگر لفظ ”میرے گھر سے چلی جا سے طلاق مقصود ہے اور لفظ ”چھوڑ دیا“ کو بطور ثمرہ بیان کیا ہے، تو ایک طلاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو