مضمون کارڈ محمد رضى نسبت طلاق / بیوی کی موجودگی میں طلاق بذریعہ کتابت
سوال
زید کی بیوی نے ایک تحریر دکھائی کہ یہ میرے زوج نے دی ہے، اور کہا کہ لے یہ تیرا طلاق نامہ ہے، اور کل میں تجھ کو سب کے سامنے تیرا حساب دیدوں گا، اور اس تحریر میں یہ تھا کہ میں اپنی زوجہ ہندہ بنت فلاں کو طلاق بائن دیتا ہوں، بغیر کسی جبر واکراہ کے باہوش وحواس اور دستخط کر کے دیا اور دو عورت باہر کی تھی، اپنی بیوی کو یوں کہہ کر دیا کہ لے یہ تیرا طلاق نامہ ہے، اور کل میں تجھے تیرا مہر وعدت خرچہ لوگوں کے سامنے دیدوں گا، بیوی کا بیان طلاق نامہ دینے سے قبل ایک یا آدھ گھنٹہ پیش آیا، وہ بیان کرتی تھی، ایک عالم اور ایک غیر…
جواب
کتاب بمنزلہ عبارت عند الحاجت ہے، اگر آدمی کسی غائب کیلئے لکھے تو وہ معتبر ہے یا حاضر کیلئے مگر ایسی حالت میں کہ بول نہ سکے، مثلاً گونگا یا معتقل اللسان ہے، تو وہ بھی معتبر ہے، اگر بلا حاجت لکھے تو وہ معتبر نہیں، اسی طرح حاضر کے حق میں معتبر نہیں، جب کہ اخرس یا معتقل اللسان نہ ہو، اس سب کا نتیجہ یہ ہوگا، کہ بیوی کی موجودگی میں محض لکھ کر دینے سے بغیر زبان سے کہے ہوئے طلاق نہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔