الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دھوکہ سے طلاق نامہ پر دستخط

سوال

عبدالحسین کی بیوی نے عبدالحسین سے کہا مجھے جن آتا ہے، جو تیرے میرے نکاح میں آگیا ہے، اس لئے چل کر عدالت میں طلاق نامہ لکھ دے تا کہ جن کو طلاق ہو جائے اس کے بعد بھی میں اور تو میاں بیوی ہیں، اور ۲۰/۱۵ دن تحریر کے بعد بھی میاں بیوی ہی رہے، عبد الحسین سیدھا سادہ آدمی ہے، اس کو بیوی نے کچہری میں لے جا کر کچہری میں اقرارنامہ بنام طلاق نامہ لکھ کر اس سے دستخط کرائے، تین لکیریں عرضی نویس نے اس کا غذ پر لگوائیں، طلاق نامہ پڑھ کر سنایا اس کے باوجود عبدالحسین نے طلاق نامہ پر دستخط کر دیئے، عبد الحسین کو چونکہ بیوی نے قرآن…

جواب

تنقيح: طلاق نامہ یا اس کی نقل بھیجئے اور یہ بھی صاف صاف لکھئے، کہ صرف طلاق نامہ پر دستخط کرائے ہیں یا زبان سے بھی طلاق کہلوائی ہے، جو کاغذ پر لکھی ہے، یا اس سے کم زیادہ، نیز عدالت کے حاکم نے فیصلہ دیا اس کی بھی نقل بھیجے، تب انشاء اللہ پوری بات سامنے آئے گی، اور اس کا جواب دیا جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو