طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق
سوال
کیا مسماۃ ہندہ کو طلاق ہوگئی کہ اس کے باپ نے اس کے شوہر زید کو جو انپڑھ گنوار اور دینی مسائل سے ناواقف ہے، چند مسلمانوں کی پنچایت میں صحیح مضمون کے ساتھ طلاق نامہ لکھوا کر اس پر زید سے نشانی انگوٹھا لگوا لیا ہے، اور بعد لگانے نشانی انگوٹھا زید نے اسی محفل میں کہا کہ میں طلاق ولاق نہیں جانتا کیسا طلاق، اور زبان سے ایک بار بھی زید نے طلاق کا لفظ نہیں نکالا ہے۔
جواب
اگر شوہر کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا غذ میں کیا لکھا ہوا ہے محض بیوی کے باپ کے کہنے سے اس پر دستخط کر دیئے اور معلوم ہونے پر کہہ دیا کہ میں طلاق ولاق نہیں جانتا کیسا طلاق اور زبان سے طلاق نہیں دی تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔