طلاق کا ایک خط
سوال
از راہ کرم وعنایت قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب سے مطلع فرمائیں۔ ” آج میں اپنے قلم سے بری کرتا ہوں، اس درمیان میں جو مجھ سے غلطی ہوگئی اس کو معاف کر دیں، اللہ کے واسطے رفاقت، رفاقت، رفاقت، طلاق، طلاق، طلاق۔
جواب
شوہر سے دریافت کر لیا جائے، اگر وہ اقرار کرے کہ اسنے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے یہ تحریر لکھی ہے تو اس کی بیوی پر طلاق مغلظہ ہوگئی ہے اور اب بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش نہ رہی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔