الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فرضی طلاق نامه

سوال

ہندہ کا نکاح زید سے ایک عرصہ قبل ہوا اور اس سے تین لڑکیاں بھی ہیں، مگر ہندہ کے شوہر اول بکر نے ہندہ کو طلاق نہیں دی، بلکہ نزاعات اور بکر کے علیحدہ ہونے کی وجہ سے وہ علیحدہ رہی، دریں حالت ہندہ اور زید کے بعض رشتہ دار نے بکر کا فرضی طلاق نامہ مرتب کر کے زید سے نکاح کرا دیا۔ کیا یہ نکاح درست ہو سکتا ہے؟ طلاق نامہ فرضی تحریر کردہ تلف ہو چکا ہے، مگر اس واقعہ کے گواہان اور مرتب کنندہ طلاق نامہ کا حلفیہ بیان منسلک ہے۔

جواب

فرضی (جھوٹا) طلاق نامہ مرتب کرنا ایسا گناہ ہے، جس کو سب جانتے ہیں، یہ لوگ نکاح ثانی کے وقت خاموش رہے، بلکہ اس میں معین رہے، اب ان کا عذر جہالت ہرگز معتبر نہیں، اگر طلاق نامہ کو فرضی قرار دے کر نکاح ثانی کو نا جائز کہا جائے، تو تین لڑکیاں جو اسی نکاح سے پیدا ہو چکی ہیں، ان کو کیا کہا جائے گا، اب طلاق مغلظہ کے بعد بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا، ہاں اگر طلاق مغلظہ نہ دی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو