الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا طلاق نامہ کا پڑھنا ضروری ہے

سوال

اس میں قرآت علی الزوج کی قید احترازی ہے، یا اتفاقی، اگر کاتب نے طلاق نامہ لکھ کر طلاق لکھوانے والے کو نہیں سنوایا اور اس کا انگوٹھا لگوا کر عورت کو کاغذ دے دیا تو اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں، اس کے جواب میں استشہاداً اور بھی عبارت تحریر فرمائیں، تو موجب شکریہ کا ہوگا، جن سے یہ ثابت ہو کہ قید احترازی ہے، اتفاقی نہیں۔

جواب

قرأت على الزوج کی قید تو سب کتابوں میں ہے، لیکن عدم قراۃ علی الزوج کا حکم صورت مسئولہ کے متعلق کسی کتاب میں مصرح نہیں ملا جزئیات مختلفہ سے مفہوم ہوتا ہے، کہ قرآت سے مقصود علم زوج ہے، یعنی زوج اپنے علم اور نیت کے اعتبار سے جس طرح طلاق دینا چاہتا ہے، اگر اسی طرح کاتب نے تحریر کیا ہے تب تو یہ طلاق نامہ معتبر ہے، اگر اس کے خلاف تحریر کیا ہے تو بغیر قرآت علی الزوج معتبر نہ ہوگا،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو