الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو نکاح ثانی کی اجازت بذریعہ خط

سوال

محمد رضی کی شادی ماہ جنوری ۳۹ ء کو مسماۃ زہرہ بیگم بنت عبداللہ شاہ سے ہوئی تھی، مگر رخصت نہیں ہوئی تھی، اتفاق وقت محمد رضی مذکور کا اس کی ہمشیرہ ومادر سے کسی خانگی معاملہ پر باہم جھگڑا وفساد ہوا اور اسی فساد کے دوران میں جب کہ اس کو سخت غصہ آرہا تھا، اور بہت زیادہ بدحواس تھا اس نے اسی بدحواسی کے عالم میں مورخہ ۱۱/نومبر ۳۹ ء کو مضمون مندرجہ ذیل کا خط بذریعہ ڈاک اپنے خسر کے نام میرٹھ سے شہر لاہور روانہ کر دیا، اس کے بعد اس کے خسر نے پدر محمد رضی کے نام لاہور سے میرٹھ مضمون مندرجہ ذیل کا خط روانہ کیا، اور یہ بھی…

جواب

اگر کارڈ کا مضمون محمد رضی کا ہے اور وہ اس کا اقرار کرتا ہے، تو شرعاً اس کی زوجہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اس لئے کہ اس تحریر میں طلاق کے لئے تین الفاظ، ایک” جس جگہ تمہاری مرضی ہو اپنی لڑکی کی دوسری شادی فوراً کر دو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو