طلاق کے ساتھ انشاء اللہ پست آواز سے کہنا اور جبراً طلاق نامہ لکھنا اور اس کو سنانا
سوال
میرے خسر نے مجھے اپنے گھر بلا کر ظلم شروع کر دیا کہ میری لڑکی کو طلاق دو، بہت مارا پیٹا، میں نے جان بچانے کے لئے مندرجہ ذیل طلاق نامہ بنگلہ زبان میں لکھا اور انشاء اللہ پست زبان سے کہہ دیا پھر مارا اور کہا کہ اس کو پڑھو، مجھے مسئلہ معلوم تھا کہ پڑھنے سے طلاق نہ ہوگی، تو میں نے طلاق نامہ پڑھا اور پھر انشاء اللہ پست زبان سے کہہ دیا بانس کنڈی کے علماء نے فتوی دیا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی، آپ کا کیا حکم ہے؟
جواب
لفظ انشاء اللہ پست زبان سے کہنا بھی مفید ہے، اس کے بعد طلاق نہیں ہوتی، اگر یہ تاویل نہ طلاق کی ہوتی تب بھی اس لکھنے سے اور اس کو پڑھنے سے طلاق نہ ہوتی، لکھنے سے تو اس لئے نہ ہوتی کہ یہ تحریر جبرا لکھوائی گئی ہے، اگر نہ لکھتا تو سخت معاملہ کیا جاتا، ایسی تحریر سے طلاق نہ ہونا، فتاوی قاضی خاں، فتاوی عالمگیری، شامی وغیرہ میں مذکور ہے، اگر زوجہ تحریر لکھتے وقت سامنے موجود تھی، تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔