الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق مراہق کے بعد اس کی زوجہ کا نکاح

سوال

ایک ملانے مراہق کے طلاق دینے اور عدت گزارنے کے بعد اس کی عورت کا نکاح دوسری جگہ کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے کر دیا تو آیا وہ ملا اس وجہ سے خارج از اسلام اور کافر ہو گیا، اور کافر بھی ایسا کہ اس کی توبہ غیر مقبول ہے، اور جو اس مجلس نکاح میں حاضر ہوئے تمام ہی کافر ہو گئے یا نہیں اور ان کے نکاح ٹوٹ گئے یا نہیں، ایک مفتی صاحب اس پر بڑ از ور دیتے ہیں، لہذا اس نکاح کرنے والے کا حکم مفصل تحریر فرمائیں۔

جواب

مراہق کی طلاق شرعاً واقع نہیں: لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده والمجنون والصبي ولو مراهقاً اهـ در مختار اگر کسی بالغ شخص نے طلاق دیدی ہو تو عدت کے اندر نکاح حرام ہے: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذالك المعتدة اهـ هنديه.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو