طلاق مکره مفصل ومدلل / حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
سوال
حدیث مشكوة: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي اغْلَاقٍ (رواه ابوداؤد وابن ماجه) قيل معنى الاغلاق الإكراه امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی کو حالت اکراہ میں کہا گیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو ورنہ قتل کرتا ہوں اور اس نے طلاق دے دیا تو فرماتے ہیں کہ طلاق واقع ہو جائیگی، اسلئے کہ اکراہ پایا گیا، بلکہ شرین میں اھون ترین کو اختیار کر لیا گیا ہے، لہذا ان کے مسلک کے پیش نظر حدیث پر عمل درآمد نہیں ہوا، نیز حدیث کے…
جواب
طلاق مکرہ کو غیر معتبر اور شرعاً کالعدم قرار دینے کیلئے حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقابلہ میں تین دلیلیں پیش کی گئی ہیں، اور الزام لگایا گیا ہے، کہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کو چھوڑا اور اس کے مقابلہ میں قیاس کو اختیار کیا۔ (۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔