الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جبر اطلاق

سوال

زید نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ بے خطا تھی جبراً تین طلاق دی، مگر بیوی اور وہاں موجود لوگوں نے نہیں سنا، مگر زید کا کہنا ہے کہ میں نے طلاق ۱۳؍ جمادی الثانی ۱۳۹۵ھ مطابق ۲۵ مئی ۱۹۷۵ء کو دی ہے۔ ایک پرچہ میں مندرجہ ذیل مضمون چھپا ہے جس کو بعینہ نقل کیا جارہا ہے۔ ”مدینہ کا گورنر جعفر بن سلیمان حکم دے رہا ہے کہ انس کے بیٹے مالک سے کہہ دو کہ وہ آئندہ یہ فتوی نہ دیں کہ جبری طلاق درست نہیں، اس سے یہ جواز پیدا ہوتا ہے کہ جبری طلاق کی طرح بیعت بھی صحیح نہیں ہے، اس وقت مسلمانوں کے خلیفہ ابو جعفر منصور ہیں، اور ان کے بارے میں…

جواب

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ رات میں سویا ہوا تھا کہ میری بیوی آئی اور چھرا لے کر مجھ پر سوار ہوگئی کہ مجھے تین طلاق دے ورنہ ابھی پیٹ چاک کردوں گی، اس سے معذرت کی معافی مانگی، مگر وہ نہیں مانی، اس لئے مجبوراً جان بچانے کے لئے میں نے تین طلاق دیدی تو کیا طلاق ہو گئی؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو