نابالغ کی طلاق نہیں ہوتی
سوال
ایک لڑکی ہے اس کا نکاح اگر نابالغ لڑکے سے ہوا ہو اور فی الحال بھی لڑکا نا بالغ ہی ہے، تیرہ سال کی عمر لڑکے کی ہے اور لڑکی بالغ ہو چکی ہے، تقریباً دو سال سے اب لڑکے کو ناف سے لے کر نیچے تک فالج مار چکا ہے، وارثین لڑکی کو طلاق لینا چاہتے ہیں، تو اب اس کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
ابھی کوئی صورت نہیں، جب لڑکا بالغ ہو جائے تب اس سے طلاق حاصل کر لیجائے، علامت بلوغ احتلام وانزال ہے، اگر یہ علامت ظاہر نہ ہو تو پندرہ سال عمر ہونے پر شریعت کی طرف سے بلوغ کا حکم ہو جائے گا۔ نابالغ کو طلاق دینے کا اختیار نہیں، اس کا ولی اگر طلاق دیدے تو وہ بھی واقع نہیں ہوگی، کذافی الدر المختار۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔