الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جبر اطلاق

سوال

مالک مزارعان کی لڑائی ہوئی، مزارعان نے تھانہ دار کو رپوٹ دی تھانہ دار نے کہا کہ میں تب رپوٹ درج کروں گا کہ جب تک تم طلاق نہ اٹھاؤ کہ ہم راضی نامہ نہ کریں گے، دونوں نے تین طلاق اٹھائی اور رپوٹ تحریر ہوگئی، مقدمہ کا چالان عدالت پولیس نے کر دیا پھر گاؤں کے لوگوں نے مزارع کو مجبور کیا کہ راضی نامہ کرو مجبوراً مزارعان کو راضی نامہ کرنا پڑا، جس وقت یہ سوال تین طلاق مولوی صاحب محمد شفیع کے پاس سرگودھا میں پیش کیا گیا صاحب موصوف نے فرمایا کہ طلاق واقع ہوگئی، اور عورتیں ان پر حرام ہوگئیں، طلاق کنندگان مولوی محمد عبد الحکیم…

جواب

اگر طلاق اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے اپنی اپنی عورتوں کو تین تین طلاق دیں تو شرعاً یہ طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہو گئیں، اب بلا حلالہ کے ان عورتوں کو رکھنا جائز نہیں ہے مولوی محمد شفیع صاحب کا فرمانا درست ہے، اور مولوی عبدالحکیم صاحب کا جواب بالکل غلط ہے، اور یہ کہنا کہ ان صورتوں میں طلاق واقع نہیں ہوتی قطعاً بے اصل ہے، اس کے خلاف تمام کتب فقہ مثل ہدایه،، در…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو