الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق صبی

سوال

ایک لڑکا بعمر ۱۴ سال نابالغ ہے، اس کے چچا نے صغرسنی کی حالت میں جب کہ لڑکا مذکور ۴ یا ۵ سال کا تھا اس کا نکاح کر دیا تھا، جس لڑکی سے شادی کی تھی، وہ اب بالغ ہے، جس کی عمر اب تقریباً ۱۸ سال ہے، لڑکی کے والدین چاہتے ہیں کہ لڑکی کا نکاح کسی دوسرے جگہ کر دیا جائے ورنہ جوان لڑکی ہے، جس کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، اور وہ تقریباً دو سال سے اس نکاح سے نا خوشی کا اظہار کرتی چلی آرہی ہے، کچھ قرائن اس قسم کے ہیں کہ اگر کسی دوسری جگہ شادی نہ کی گئی تو شاید کسی شخص کے ساتھ بغیر نکاح ہی بھاگ جائے گی لڑکی کے والدین لڑکے…

جواب

جزئیہ متون مذہب میں یہ مسئلہ بصراحت مذکور ہے جیسا کہ سائل کو بھی اعتراف ہے لہذا اگر جز شاذہ اس کے خلاف ملے گا، تو اس کے لئے کوئی محمل حسن تجویز کر کے اصل مذہب کے موافق اور تابع قرار دیا جائے گا اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر وہ قابل لحاظ ہے جس کی تفسیر کی گئی ہو، پھر وہ متروک ہوگا، نامی اور غایۃ التحقیق کی عبارت دیگر کتب میں بھی موجود ہے، اس میں اذا تحققت الحاجة کی قید زیادہ قابل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو