الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شدت غصہ میں تین طلاق

سوال

زید نے دن بھر کے بعد تھک کر گھر میں قدم رکھا اور کسی بات پر ناراض ہو کر اپنے دماغ کا توازن کھو بیٹھا، اور غصہ میں بے قابو ہو کر یہ الفاظ کہہ ڈالے (کہ تم اپنے گھر جاؤ طلاق ہوگئی، طلاق ہوگئی، طلاق ہوگئی، اب اپنے گھر جاؤ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے) اس کے بعد بیوی چیخ چیخ کر رونے لگی، شوہر کو بھی غلطی کا احساس ہوا، اور اس نے فوراً اپنی بیوی سے معافی مانگی، لیکن بیوی کا روتے ہوئے برا حال تھا، زید کے دو سالہ بچی بھی ہے، لڑکی کی ماں دل کی مریض ہے، انکو اس حالت سے مطلع نہیں کیا گیا، ویسے بیوی میکہ جا چکی ہے، اسلئے کہ…

جواب

طلاق عامہ غصہ ہی میں دی جاتی ہے، خوشنودی میں اس کی نوبت کم آتی ہے، جب آدمی غصہ میں ایسی بات کہہ دیتا ہے، جس کا نتیجہ خراب نکلتا ہے، تو وہ سمجھتا اور معذرت کرتا ہے، کہ میں قابو میں نہیں تھا، توازن کھو بیٹھا تھا وغیرہ وغیرہ، حالانکہ ایسی بات نہیں اس کی عقل ختم نہیں ہو جاتی کہ اس کو یہ خبر نہ رہے کہ ان الفاظ (طلاق)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو