بیوی کا نام بدل کر طلاق
سوال
ایک شخص اپنی سابقہ بیوی کو رکھ کر دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے، اس میں عورت مخطوبہ کی طرف کے لوگوں نے کچھ نہیں کہا، جب لوگوں کو لے کر دلہن کے گھر پہنچے اور نکاح پڑھانے کا وقت ہوا تو عورت کے لوگوں نے کہا کہ اگر تم اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہ دو گے تو ہم کبھی تمہارے ساتھ بیاہ نہ کرائیں گے آخر دولہا مارے شرم کے بلانیت طلاق اپنی بیوی کا نام بدل کر اجنبی نام کہہ کر طلاق دیا، لیکن عورت کے باپ کا نام لیا ہے آیا اس صورت میں عورت مذکورہ پر طلاق ہوئی یا نہیں؟
جواب
اگر اجنبی نام لے کر طلاق دی ہے، تو اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، وقوع طلاق کی بیوی کی طرف نسبت واضافت لازم ہے خواہ نام لے کر ہو خواہ اشارہ کر کے خواہ ضمیر راجع کر کے جب کہ بیوی کا نام نہیں لیا، اگر چہ نسبت صحیح بیان کی ہے تو طلاق نہیں ہوئی، نام غلط ہونے کی صورت میں نسبت کی صحت معتبر نہیں ہوتی: وفى المحيط الاصل انه متى وجدت النسبة وغير اسمها بغيره لا يقع لان التعريف لا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔