نسبت بدل کر طلاق دینا
سوال
عبدالعزیز نے اپنی بیوی کو حالت غصہ میں اس طرح طلاق دیا، بدھو کی نانی تیرا تینوں طلاق اپنی ہاتھی لے کر جا، بدھو عبد العزیز کی بیوی کے باپ کا نام ہے، اصل اس کا نام عبد الخالق ہے، کیا ایسی صورت میں عبد العزیز کی بیوی زوجیت سے ختم ہوگئی یا نہیں؟ اگر طلاق واقع نہیں ہوئی، تو عدم وقوع طلاق کی دلیل ضرور قلم بند کی جائے، اگر واقع ہوگئی، تو کس دلیل سے؟ امید کہ جواب شافی سے نوازا جاؤں گا۔
جواب
اور یہ سوال تقریباً پانچ سال سے گشت کر رہا ہے، اور دونوں قسم کے جواب اس پر دیئے گئے ہیں مگر افسوس سائل کو تشفی نہیں ہوئی، شافی مطلق ہی شفادے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا نام بدل کر یا نسبت بدل کر طلاق دے، مثلاً اس کی بیوی کا نام فاطمہ ہے اور وہ عائشہ کو طلاق دے، یا زید کی ماں یا زید کی بہن یا زید کی بیٹی کو طلاق دے حالانکہ اس کی بیوی زید کی ماں یا بہن یا بیٹی نہیں ہے تو اس کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔