غیر شادی شدہ کی طلاق واقع نہیں
سوال
ایک شخص قسم کھانے کا عادی ہے، اس نے قسم کھائی اگر میں فلاں لفظ زبان سے ادا کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، اور شام تک کی اس نے اپنے ذہن میں نیت کر لی اور اگلے روز اس لفظ کو اس نے زبان سے ادا کر دیا، پھر کچھ دنوں بعد اس نے قسم کھائی کہ میں نے فلاں کام نہیں کیا، اگر کیا ہو تو میری بیوی کو طلاق ہے، پھر کچھ دنوں بعد اس نے پھر یہی قسم کھائی، اور غالب گمان بلکہ یقین ہے کہ اس نے وہ کام نہیں کیا، کچھ دنوں بعد پھر قسم کھائی کہ فلاں نے یہ کلام کیا ہے، اگر نہیں کیا ہے تو میری بیوی کو طلاق، اور یہاں پر بھی اسی درجہ کا غالب گمان…
جواب
جب کہ قسم کھاتے وقت اس کے نکاح میں کوئی عورت نہیں تھی، تو مذکورہ سوال قسم بار بار کھانے سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق نہیں ہوئی، کیونکہ اس وقت اس کی بیوی موجود ہی نہیں، جب نکاح کرے گا تب اس کی بیوی آئے گی اور اس سے قسم وطلاق کا کوئی تعلق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔