طلاق قبل النكاح
سوال
ایک شخص مسمی سیف اللہ خاں جو کہ کند ذہن اور نیم پاگل ہے، وہ ایک دوسرے گاؤں میں ایک شخص مولوی خاں زماں کے پاس اپنے گھر کے کسی مریض کیلئے تعویذ لینے گیا، جب وہاں سے فارغ ہوا تو واپسی پر راستے میں اس کو غلام عباس خاں محمد یعقوب خاں، محمد وزیر خاں ملے، کیونکہ یہ تینوں آدمی راستے میں اپنی اپنی زمین میں کاشت کر رہے تھے، تو سیف اللہ خاں وہاں ان کے پاس بیٹھ گیا، تو محمد یعقوب خاں نے اس سے کہا کہ تجھ کو میں دس روپے کا نوٹ دوں گا، تو اپنی منکوحہ کو طلاق دیدے تو سیف اللہ خاں نے کہا کہ اگر یہ بات تم کسی کو نہ بتاؤ تو میں طلاق…
جواب
اگر صرف منگنی ہوئی ہے یعنی وعدہ نکاح ہوا ہے، (نکاح نہیں ہوا) تو یہ طلاق بیکار ہے، اس سے کچھ نہیں ہوا: ”لا طلاق قبل النکاح اگر نکاح بھی ہو چکا ہے (اگر چہ رخصتی نہیں ہوئی) تو طلاق مغلظہ ہو گئی، اب اس سے بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا: قال لزوجته غير المدخول بها انت طالق ثلاثاً وقعن لما تقرر انه متى ذكر العدد كان الوقوع به الخ در مختار ص: ۶۲۴، ج: ۲.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔