الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدالت میں طلاق کا جھوٹا اقرار جائیداد کے تحفظ کیلئے

سوال

زید حکومت کے قانونی شکنجے سے بچانے کی غرض سے اپنی ملکیت کو لڑکے کی بیوی کو ہبہ کر دیتا ہے، لیکن زید کے ایسا کرنے سے اس کی ملکیت قانونی گرفت سے محفوظ نہیں ہوتی، چونکہ ملکیت جس کو ہبہ کی گئی وہ قانونا لڑکے کی فیملی میں شامل ہے، لہذا زید کو پہلے لڑکے اور اس کی بیوی کی علیحدگی ثابت کرنا ضروری ہوگئی، علیحدگی بھی قانونی طریقے سے تحریر عدالت میں پیش کی جائے، تب اس کی ملکیت محفوظ ہوسکتی ہے، چنانچہ زید اب دوسرا طریقہ اختیار کرتا ہے، جو حسب ذیل ہے۔

جواب

اگر لڑکا پہلے اس بات کا گواہ بنالے کہ میں طلاق نامہ پر غلط دستخط کروں گا، یا عدالت میں طلاق کا غلط اقرار کروں گا، واقعہ نہ طلاق دی ہے، نہ طلاق دینا مقصود ہے، تو اس کے اس جھوٹے اقرار یا جھوٹے دستخط سے طلاق واقع نہیں ہوگی: لو اراد به الخبر من الماضي كذبًا لا يقع ديانةً وَإِنْ أَشْهَدَ قبل ذلك لا يقع قضاء اهـ شامی ص: ۴۳۳، ج: ۱.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو