طلاق بلا اضافت
سوال
زید اپنی ساس سے اپنی بڑی سالی کے گھر کی باتیں بتلا رہا تھا، کہ ہماری بڑی سالی نے مجھے ایسی خراب باتیں کہی ہیں جو کہ میرے دل کو بری معلوم ہوئیں، زید نے کہا کہ اس وجہ سے میں اپنی بیوی کو بغرض تفریح گھومنے نہیں جانے دوں گا، صرف غمی اور شادی کے لئے جانے دوں گا، زید کی بیوی نے ضد کی اور کہا کہ میں تو ضرور جاؤں گی، بات بڑھ گئی، زید کی بیوی نے کہا کہ تمہاری اور چاروں بہنوں کو طلاق ہو جا اس کے بعد زید نے کہا کہ اگر ہماری بہنیں اپنے شوہر سے بلا وجہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑیں اور طلاق پاویں تو میں اس کو ہرگز رہنے نہ دوں…
جواب
آدمی طلاق اپنی بیوی ہی کو دیا کرتا ہے، کسی غیر عورت کو یا دیوار وغیرہ کو نہیں دیا کرتا، گفتگو تیز تیز بیوی ہی سے ہوئی غصہ بیوی ہی کی بات پر آیا، اس گفتگو میں زید نے بیوی کے متعلق کہا کہ تم چاہے جو بھی کہو میں طلاق ہرگز نہ دوں گا، یہ مطلب نہیں تھا کہ دیوار یا کسی اور غیر عورت کو طلاق نہیں دوں گا، بلکہ اپنی بیوی کے متعلق کہا تھا ہر بات کرتے وقت ہر مرتبہ بیوی کا نام لینا یا تم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔