طلاق بغیر نام لئے ہوئے اور بغیر اشارہ کے
سوال
زید نے اپنی بیوی کو زدوکوب کیا، جس کی وجہ سے زید اور اس کی ساس کا آپس میں جھگڑا ہوا، زید نے اپنی ساس کو لکھا ”کیا تو اس کی طلاق لینا چاہتی ہے، ساس نے جواب نفی میں دیا، پھر ساس کے ساتھ جھگڑے کے دوران میں مندرجہ بالا الفاظ کے کچھ دیر بعد ساس کو مخاطب کرتے ہوئے زید نے کہا “طلاق، طلاق، طلاق۔ نہ زید نے اپنی عورت کا نام لیا، نہ اس کی طرف اشارہ کیا نہ عورت زید کے سامنے تھی، اور نہ اپنی ساس کو لکھا کہ میں نے تیری لڑکی یا اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے، اب شرعاً اس کا حکم مدلل تحریر فرمائیں۔
جواب
زدو کوب اپنی عورت کو کیا، اس کی وجہ سے ساس سے جھگڑا ہوا، اسی کی طلاق کیلئے ساس سے دریافت کیا، جس پر ساس نے جواب نفی میں دیا، پھر اسی مجلس میں تین دفعہ طلاق طلاق طلاق کہا، تو طلاق واقع ہونے پر کیا شبہ رہ گیا، نام لینا یا اشارہ کرنا ضروری نہیں یہ سب قرائن کافی ہیں، ویسے بھی طلاق بیوی ہی کو دی جاتی ہے کسی اور کو نہیں دی جاتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔