جی میں گذرا کہ اگر فلاں سورت پڑھوں تو طلاق
سوال
میں نماز میں تھا نماز ہی میں شیطانی وسوسہ سے اچانک دل سے گزار دیا کہ فلاں سورۃ کو پڑھوں گا تو طلاق واقع ہو جائے گی، اس سورت کو پڑھنے سے رکا رہا کہ طلاق کا خیال بالکل اتر گیا، اور اس سورۃ کو پڑھ لیا، بعد میں اوپر کی لکھی ہوئی بات یاد آ گئی، اب میرے دل کو کھٹکا ہے کہ طلاق تو واقع نہ ہوگی، شیطانی وسوسہ یک بیک دل میں ہونے کے بعد اہلیہ کو دو حیض ہو گیا ہے، تیسرے حیض کا انتظار ہے، طلاق ہوگی کہ نہیں؟
جواب
محض ایسا وسوسہ آنے کے بعد اس سورہ کے پڑھنے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، بے فکر رہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔