الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دل میں طلاق دینے کا حکم

سوال

زید نے اپنے ہی آپ کو اپنے دل میں بغیر حرکت کرے زبان کے کہا کہ تو نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی، اسکے جواب میں زید ہی نے کہا کہ ہاں اور اس ہاں کو سن بھی لیا پس صرف ہاں کے سن لینے سے بکر کہتا ہے، کہ طلاق ہوگئی، اگر چہ طلاق کو زبان سے نہ کہا ہو، اور خالد کہتا ہے کہ طلاق نہیں ہوگی، جب تک کہ زبان سے نہ کہے ان دونوں میں کون حق پر ہے؟

جواب

خالد کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے کیوں کہ وقوع طلاق کیلئے صرف نیت کافی نہیں، بلکہ زبان سے کہنا شرط ہے، اور صورت مسئولہ میں لفظ طلاق کا تلفظ نہیں کیا، لہذا طلاق واقع نہ ہوگی۔لواجری الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع اهـ مراقي الفلاح ص: ۱۲۷، والبسط في رد المحتار.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو