بیوی کا نام بدل کر طلاق دینا
سوال
محمد ظہیر الدین ابن حکیم الدین مرحوم نے اپنی بڑی بیوی کے ساتھ کئی وجوہ کی بنا پر غصہ ہو کر چار آدمیوں کے سامنے یہ بات کہی کہ رحیم بخش کی بیٹی جمیلہ کو طلاق دی، رحیم بخش کی بیٹی جمیلہ کو طلاق دی، رحیم بخش کی بیٹی جمیلہ کو طلاق دی، آگاہ رہیں کہ ظہیر الدین کی بڑی بیوی کا نام عاملہ ہے لیکن جمیلہ نام لے کر طلاق دی ہے۔
جواب
اگر خالی نام لے اور وہ بیوی کا نام نہ ہو بلکہ غیر کا نام ہو تو اس سے بیوی پر طلاق نہیں ہوتی ہے صورت مسئولہ میں شوہر کا جو منقول نقل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ رحیم بخش کی بیٹی جمیلہ کو طلاق دی اور اس مقولہ پر چار اشخاص کی گواہی پیش کی ہے، اس میں یہ لفظ نہیں ہے، ”میری بڑی بیوی“ پھر جو حضرات وقوع طلاق کا حکم دیتے ہیں، وہ یہ لفظ ”میری بڑی بیوی“ کہاں سے بیان کرتے ہیں کیا رحیم بخش کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔