الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بار بار طلاق کا حکم

سوال

میں نے اپنے والدین سے گھر کے متعلق لڑائی کر کے اپنی زوجہ کو کہہ دیا کہ تم اپنے گھر اپنے بھانجہ کے کپڑے لے جا اور ایک پرچہ نابالغ لڑکے سے لکھوا کر زوجہ کو دیدیا جس کی یہ عبارت ہے۔ جناب خالو صاحب! تمہاری لڑکی میری طرف سے آزاد ہے تم کو اختیار ہے مہر کی عوض میرا زیور رکھ لینا ورنہ واپس کر دینا روپیہ لینا۔

جواب

شوہر اگر والد اور زوجہ کی دو طلاق کے بارے میں تصدیق کرتا ہے یعنی غالب خیال یہ ہے کہ یہ سچے ہیں تو دونوں طلاقیں واقع ہو گئیں، اگر دونوں صریح ہیں تو ان کے بعد عدت میں رجعت جائز ہے اور بعد عدت نکاح درست ہے، اگر ایک بائن تھی دوسری صریح تو رجعت کا اختیار نہیں البتہ نکاح درست ہے اگر دونوں بائن تھیں تو ان میں سے ایک ہی واقع ہوئی دوسری نہیں نکاح درست ہے کہ اگر نکاح یا رجعت (حسب تفصیل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو