متعدد بار طلاق
سوال
ایک عورت مسماۃ جنت بعمر ۲۱ سال خدا کو حاضر وناظر جان کر حلفیہ بیان کر سکتی ہے، کہ میں عرصہ تقریباً ۴ سال سے عبدالرشید کی زوجیت میں ہوں، اس تمام مدت میں میرے خسر تقریباً چھ ماہ تک اپنی حیات میں میرے تمام اخراجات کے کفیل رہے، انکے انتقال کے بعد میرے شوہر مذکور نے حقوق زوجیت مثلا نان ونفقہ اور رات کا تخلیہ ترک کر کے دوسری بازاری پیشہ ور عورتوں سے اپنے تعلقات کر لئے، جب کہ کبھی میں نے اور میرے والدین نے اور دوسرے اقرباء نے نان نفقہ کے لئے کہا تو اس نے صاف طور سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ کو بالالفاظ طلاق دے چکا…
جواب
(۱) صورت مسئولہ میں شرعاً طلاق واقع ہو گئی۔ (۲) جس تاریخ کو طلاق دی ہے، اسی تاریخ سے عدت کے دن شمار کئے جائیں گے۔ (۳) اگر شوہر کو طلاق کا اقرار ہے یا کم از کم دو عادل مرد یا ایک مرد دو عورتیں گواہ موجود ہیں تو بعد عدت دوسری جگہ شرعاً نکاح درست ہے۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔