طلاق پر طلاق
سوال
ایک شخص (ہ) کی شادی ۱۹۴۹ء میں (س) کے ساتھ ہوئی تھی، (س) کے والدین وغیرہ نے اور خود (س) نے بھی کوشش کی (ہ) کی بہن (ز) کی شادی (س) کے بھائی (خ) کے ساتھ ہو جائے، چنانچہ (ز) کی شادی (خ) کے ساتھ ۵۹ء میں ہوگئی، بد قسمتی سے (ز) کی شادی کے ایک سال بعد یا کچھ مدت بعد تلخیاں پیدا ہوگئیں، چنانچہ ۶۱ء کے شروع میں (ہ) نے اپنی (س) کو طلاق دیدی، باپ نے (ہ) کی خوشامد کی، چنانچہ طلاق کا معاملہ اس وجہ سے چھپا لیا گیا لیکن دل میں خلش باقی رہی بہن (ز) کو مقام لام پر اس کے باپ کے گھر بیٹھا لیا گیا اور ارادہ کر لیا گیا کہ بہن (ز)
جواب
ھ کے آخر اودھ کے شروع میں جب (ہ) نے (س) کو طلاق دی تو اسی وقت طلاق ہو گئی تھی، اس کے بعد اگر عدت (تین حیض) گذرنے سے پہلے رجعت کر لی تھی، تو وہ رجعت صحیح ہو گئی تھی، اور نکاح بدستور قائم تھا پھر جب (ش) کی شادی میں شرکت کرنے پر طلاق بائن کو معلق کیا اور (س)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔