الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سید، مولی، عبد کے معانی

سوال

کتاب التوحید میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا انْتَ سَيِّدُنَا وَأَفْضَلُنَا وَخَيْرُنَا الخ او كما قال آپ نے فرمایا السَّيِّدُ هُوَ الله، تو اس سے سید کہنے کی ممانعت ثابت ہورہی ہے، پھر دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ مالک رقبہ غلام کو عبدی نہ کہے اور غلام مالک کو رب نہ کہے بلکہ سید کہے اور سید خادم ہے یہاں سید کہنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ کیا یہ حدیثیں صحیح ہیں۔ اگر صحیح ہیں تو پھر ایک دوسرے کے خلاف کیوں ہیں؟

جواب

سید کے ایک معنی ایسے بھی ہیں جن کے اعتبار سے سید صرف اللہ ہے۔ اسی اعتبار سے فرمایا ہے السَّيِّدُ هُوَ اللهُ۔ ایک معنی کے اعتبار سے دوسروں پر بھی اس کا اطلاق درست ہے۔ تضاد رفع ہو گیا۔ اسی طرح عبد کے ایک معنی ایسے بھی ہیں جن کے اعتبار سے اس کی اضافت غیر اللہ کی طرف نہ کی جائے ایک معنی کے اعتبار سے غیر اللہ کی طرف بھی اضافت جائز ہے جیسے عبد المطلب کے عبد کی جمع عباد آتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو