الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کعبہ کوتوڑنا اور حرم میں کافر کے داخل ہونے سے متعلق حدیثوں میں تعارض

سوال

مفتی صاحب مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضور ﷺ کی حدیث ہے کہ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں کفر و شرک قیامت تک داخل نہ ہوں گے، نہ دجال داخل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ فرشتے دروازوں پر متعین ہوں گے اور دوسری حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تک حبش والے تم سے نہ لڑیں تم ان سے نہ لڑو۔ کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی نکالے گا۔ مشکوة شریف، دوسری روایت میں یہ ہے کہ دو چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا حبشی ویران کرے گا۔

جواب

پہلی حدیث کا بھی حوالہ دیجئے جس میں کافر و مشرک کے حرمین شریفین میں داخل نہ ہو سکنے کا ذکر ہے۔ اگر اس کے الفاظ نقل کر دیں تو زیادہ اچھا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو