فجر کی دو سنتیں بعد فرض پڑھے یا بعد طلوع شمس
سوال
روایت ہے محمد بن ابراہیم سے، انھوں نے نقل کی قیس بن عمرو سے کہا کہ دیکھا نبی ﷺ نے ایک شخص کو کہ نماز پڑھتا تھا بعد نماز فرض صبح کے دورکعتیں پس فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نماز صبح کی دورکعتیں ہیں۔ پس کہا اس شخص نے تحقیق کہ میں نے نہ پڑھی تھی دو رکعتیں سنت۔ یہ پہلی دو رکعتیں سنت ہیں۔ پس پڑھا ان کو اب بس چپ رہے رسول اللہ ﷺ۔ روایت کیا اس حدیث کو ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اور روایت کیا ترمذی نے۔ (۱) یہ حدیث ابو داؤد چھاپہ اول دہلی کے ص ۷۹ار میں ہے۔ (۲) یہی حدیث ابن ماجہ چھاپہ اول دہلی کے ص ۱۹۵ میں ہے۔ (۳)
جواب
اس مسئلہ پر غور کرنے کے لئے متعدد مضامین کی احادیث کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ پھر معلوم ہوگا کہ حنفیہ کا مذہب کسی قدر جامع ہے اور کس قدر حدیث کے مطابق ہے؟ (۱) حدیث شریف میں ہے کہ فجر سے پہلے دو رکعت مت چھوڑو۔ اگر چہ تم کو گھوڑے روند ڈالیں۔ اس لئے حنفیہ ان دو سنتوں کی زیادہ تاکید کرتے ہیں۔ (۲) حدیث شریف میں جماعت سے نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔