اسْتَعِينُوا عَلَى أُمُورِكُمْ کا مطلب
سوال
اسْتَعِينُوا عَلَى أُمُورِكُمْ بِالْكِتُمَانِ کا کیا مطلب ہے؟ مثال سے واضح فرمائیں۔
جواب
جو حاجت پیش آئے تو مخلوق سے نہ کہے اس سے پوشیدہ رکھے خالق سے کہے کہ وہی خالق حاجت روا ہے۔ مثلاً بھوک لگے تو در بدر سوال کرتا نہ پھرے کسی کے سامنے ظاہر نہ ہونے دے کہ مجھے بھوک ہے، خالق جل جلالہ کی طرف سے انتظام ہوگا۔ يرزقه من حيث لا يحتسب۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔