قرآن کریم اردو میں لکھنا
سوال
اخبار آزاد ہند ۲۴ جون میں آپکا فتوی روشن چراغ کے متعلق شائع ہوا جس میں آپ نے جو فتوی دیا ہے اس کا خلاصہ بندہ اس طرح درج کر رہا ہے۔ روشن چراغ کے مترجم محمد خاں جالندھری نے جو کتاب لکھی ہے وہ عربی مع اردو ہے۔ مگر فی الحال بازاری روشن چراغ میں عربی کا پتہ نہیں ہے اور کاتب و شائع کننده یا کمپنی یا چھا پہ خانہ کا پتہ بھی نہیں دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے پھر اپنا فتویٰ اس کے متعلق بھی دیا ہے۔
جواب
قرآن کریم عربی میں نازل ہوا اس کو عربی میں دوسروں تک پہنچایا گیا عربی میں لکھا گیا عربی کو برقرار رکھ کر اس کا ترجمہ اور اس کی تفسیر ہر زبان میں لکھنا اور چھاپنا اور بیان کرنا درست ہے لیکن عربی کو ختم کر کے محض آیت کسی بھی زبان میں لکھنا اور چھاپنا جائز نہیں اسی طرح عربی الفاظ کو کسی اور رسم الخط ہندی انگریزی بنگلہ وغیرہ میں چھاپنا بھی جائز نہیں اس پر اتفاق و اجماع ہے جیسا کہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔