الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پارہ عم کی طباعت خلاف ترتیب

سوال

ہندوستان میں پارہ عم (تیسواں پارہ) جو قرآن سے الگ طبع کرایا جاتا ہے وہ قرآن پاک کی ترتیب کے خلاف طبع ہوتا ہے اس کی کیا وجہ ہے اور یہ طریقہ عمل کب سے جاری ہوا اور کس نے جاری کیا۔ کیا قرآن پاک کی طباعت مصحف عثمانی کی ترتیب کے خلاف کی جاسکتی ہے ! اگر ایسا کرنا جائز نہیں ہے تو پارہ عم کی ترتیب مصحف عثمانی کی ترتیب کے خلاف کیوں عملاً جائز قرار دی جاتی ہے! یہ فرما کر مطمئن نہ فرمائیں کہ بچوں کی آسانی کے لئے ایسا کیا گیا۔ یہ آسانی مصحف عثمانی کی ترتیب کو باقی رکھ کر بھی حاصل ہوسکتی ہے؟

جواب

صریح جزئیہ کتب فقہ میں نہیں ملا۔ اولاً یہ عاجز چند عبارات نقل کرتا ہے اس کے بعد جو کچھ اس سے مستفاد ہے صراحتہ یا اشارہ یا دلالہ یا لزوما وہ عرض کرے گا۔ عبارات منقولہ سے چند امور مستفاد ہوئے۔ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب واجب ہے۔ اس کے خلاف پڑھنا گناہ ہے۔ سورتوں اور آیتوں کی موجودہ ترتیب کے خلاف نماز میں پڑھنا مکروہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو