شہادت فاسق کا حکم
سوال
(۱) زید کہتا ہے کہ بموجب کتب متداولہ نزد احناف مثلاً قدوری، کنز الدقائق شرح وقایہ، ہدایہ، ردالمختار، در مختار در منتقی، مجمع الانہر، فتاویٰ ہندیہ، فتح القدير، بحر الرائق، خانیہ وغیرہ بوقت انعقاد نکاح دو مرد یا ایک مرد دو عورت گواہ خواہ عادل ہوں یا فاسق کافی ہیں اور اس صورت میں فاسق کی شہادت سے نزد احناف نکاح صحیح ہے اس لئے کہ حدیث شریف جو کہ فتح القدیر وغیرہ کتب میں مذکور ہے وہ مقید بقید عدالت نہیں ہے۔
جواب
زید وعمر کا مباحثہ پڑھا۔ عمر کا کہنا کہ جب شہادت فاسق سے انعقاد صحیح ہے تو بوقت نزاع بھی اس کا اعتبار ہونا چاہئے۔ قیاس مع الفارق اور اصول وفروع فقہ وحدیث کے خلاف ہے اور بوقت نزاع اس شہادت کا اعتبار نہ کرنے سے اصل انعقاد میں بھی اعتبار نہ کر کے اس کو معدوم اور لا طائل سمجھ کر انعقاد بلا شہادت (جو کہ ناجائز ہے) ماننا بھی غلط ہے اور عدم تفقہ پر مبنی ہے جیسا کہ امور ذیل سے واضح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔