نکاح کے لئے گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول ہونا ضروری ہے
سوال
(۱) زید بکر کی دختر کی نکاح کی نسبت بکر سے جا کر سوال کرتا ہے کہ اپنی دختر کا نکاح میرے ہمراہ کر دو اور بکر سن کر کہتا ہے کہ ہم لوگ سب خوش ہیں تو دوسری مرتبہ آنا یا نہیں خود آدمی بھیج کر بلوالوں گا مشورہ بھی کرلوں گا زید واپس چلا آتا ہے عرصہ میں یوم کے بعد بکر ایک مرد مسلمان کو بھیج کر زید کو بغرض عقد دختر طلب کرتا ہے اور زید ہمراہ بکر چلا آتا ہے بکر زید سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ وقرآن شریف کو ضامن دے کر وحاضر وناظر جان کر سامنے گواہوں کے کہتا ہوں کہ میں نے لڑکی تجھ کو دیدی ہے بعد ازاں زید دختر بکر کی…
جواب
(۱)عبارت مذکورہ میں لڑکی کے باپ بکر کا قول کہ میں نے لڑکی تجھے دیدی ہے تو مذکور ہے لیکن اس کے جواب میں زید کا کوئی قول نہیں مذکور ہے نہ معلوم زید نے اس کے جواب میں قبول کیا ہے یا نہیں اگر زید نے قبول نہیں کیا تو شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا اگر قبول کیا ہے تو اس کے الفاظ لکھ کر دریافت کیجئے کیونکہ نکاح صرف ایک کے قول سے منعقد نہیں ہوتا بلکہ ایک ہی مجلس میں ایک کا ایجاب اور دوسرے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔