تعیین گواہاں کے بغیر مجمع میں نکاح
سوال
یہاں پر ایک بارات مسجد میں آئی۔ نماز مغرب کے بعد نکاح ہونا تھا۔ نکاح خواں نے کہا کہ گواہ لاؤ۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں گواہ کی کیا ضرورت ہے، تم نکاح پڑھاؤ۔ اس وقت لڑکی کی اجازت بھی کوئی ظاہر نہیں کی گئی تو یہ نکاح ہوا یا نہیں؟
جواب
جب مجمع کے سامنے ایجاب وقبول کرایا گیا ہے تو وہ سب گواہ ہیں۔ مستقلاً مقرر کر کے گواہ بنانا ضروری نہیں۔ اگر لڑکی کے والد نے پہلے ہی کہدیا ہو کہ فلاں لڑکے سے اتنے مہر پر تمہارا نکاح کر رہا ہوں اور لڑکی نے انکار نہ کیا ہو تو بھی اجازت ہے۔ اگر پہلے نہ کہا ہو اور نکاح کے بعد جا کر خبر کر دے اور لڑکی خبر سن کر اس کو منظور نہ کرے بلکہ خاموش رہے تب بھی وہ نکاح پختہ اور لازم ہو جاتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔