صرف عورتوں کی گواہی سے نکاح
سوال
زید محلہ کی مسجد میں بلا اجرت امامت کے فرائض انجام دیتا ہے، محلہ کی نکاح خوانی بھی اسی کے سپرد ہے۔ معتبر ذریعہ سے پتہ چلا ہے کہ عرصہ ہوا زید نے اپنا خود نکاح ایک بیوہ عورت سے چار عورتوں کی گواہی سے پڑھ لیا۔ پہلی بیوی دوسرے مقام پر رہتی ہے دوسری بیوی ساتھ رہتی ہے ایسے شخص کا امامت کرنا اور اس سے نکاح پڑھوانا درست ہے، یا نہیں؟
جواب
محض عورتوں کی گواہی سے (اگر چہ وہ چار ہوں) نکاح صحیح نہیں ہوتا ہے جس نے ایسا کیا غلط کیا۔ اس کو لازم ہے کہ اپنی اس غلطی پر توبہ واستغفار کرے اور کم از کم دومردوں یا ایک
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔