بھائی وبہنوئی کی گواہی اور گواہوں کے بیان میں اختلاف
سوال
(۱) زید عمرو کا حقیقی بھائی ہے زید عمرو کے حق میں اس کی نفع کی شہادت دیتا ہے نہ نقصان کی آیا زید کی شہادت عمرو کے حق میں نفع کے واسطے شرعا قبول ہے یا نہیں؟ (۲) منگنی کی مجلس کے چار گواہ دیندار معزز رئیس اور دو گواہ معمولی تھے چار گواہان کہتے ہیں کہ ایجاب کے بعد قبول نہیں سنا اور دو گواہ معمولی ایک حقیقی بھائی مدعی کا دوسرا بہنوئی مدعی کا یعنی رشتہ دار کہتے ہیں قبول مدعی نے کیا ہے آیا یہ اختلاف شہادت میں ہوا یا نہیں اس اختلاف کی وجہ سے یہ شہادت شرعاً مقبول ہے یا نہیں، نیز بہنوئی کی شہادت بوجہ رشتہ دار ہونے کے شرعاً…
جواب
اصلی واقعہ کا جواب مدعی ومدعا علیہ وگواہان کے بیان دیکھ کر اور حسب ضرورت تنقیحات کر کے پہلے مفصل لکھا جاچکا ہے اس مرتبہ جو سوالات کئے گئے ہیں صرف ان کا جواب دیا جاتا ہے۔ (۱) بھائی ہونا گواہی قبول ہونے سے مانع نہیں شهادة الاخ لاخيه واولاده جائزة اه فتاوی عالمگیری ص ۴۵/ ج ۲. (۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔